السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔
سب سے پہلے ہم آپ سب کو ہماری ویب سائٹ رئیل ہسٹری پر خوش آمدید کہتے ہیں
ایک عظیم بہادر کی عظیم داستان پڑھنے کے بعد نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے ضرور دیجیے گا ۔۔ اس سے ہمارا حوصلہ بڑھتا ہے
جزاک اللہ خیرا
A golden chapter of Islamic history: Sultan Nur al-Din-2mi
❤اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا باب سلطان نورالدین زنگی ❤
الملک العادل ناصرامیرالمؤمنین ابوالقاسم نورالدین محمود بن ابوسعیدعماد الدین زنگی.
سلطان نور الدین ایک عابد شب بیدار تھا۔ وہ ایک عظیم الشان سلطنت کا فرمانروا ہونے کے باوجود ایسا مرد درویش تھا، جس کی راتیں مصلیٰ پر گزرتی تھیں اور دن میدان جہاد میں۔ وہ عظمت و کردار کا ایک عظیم پیکر تھا، جس نے اپنی نوکِ شمشیر سے تاریخ اسلام کا ایک روشن باب لکھا۔ سلطان نورالدینؒ رات کا بیشتر حصہ عبادات و مناجات میں گزارتا تھا۔ اس کا معمول تھا کہ نماز عشاء کے بعد بکثرت نوافل پڑھتا اور پھر رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم پر سینکڑوں مرتبہ درود بھیج کر تھوڑی دیر کے لیے بستر پر لیٹ جاتا۔ چند ساعتوں کے بعد پھر نمازِ تہجد کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا اور صبح تک نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ عبادات میں مشغول رہتا۔
یہی وجہ ہے کہ جب یہودیوں نے سازش کےتحت رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کےجسد اطہر کو روضہ مبارک سے نکالنے کی کوشش کی تو سلطان نورالدین زنگی کو خواب میں جناب نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی بعض روایات میں ہے کہ تین رات مسلسل خواب میں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی،
ہر مرتبہ دو آدمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نورالدین! یہ آدمی مجھے ستا رہے ہیں، ان کے شر کا استیصال کر‘‘ نورالدین یہ خواب دیکھ کر سخت مضطرب ہوا۔ بار بار استغفار پڑھتا اور رو رو کر کہتا؟ میرے آقا و مولا کو میرے جیتے جی کوئی ستائے، یہ نہیں ہو سکتا۔ میری جان، مال، آل، اولاد سب آقائے مدنی پر نثار ہے۔ خدا اس دن کے لیے نورالدین کو زندہ نہ رکھے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم غلام کو یاد فرمائیں اور وہ دمشق میں آرام سے بیٹھا رہے۔ سلطان نور الدین بے چین ہو گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ مدینہ منورہ میں ضرور کوئی ایسا ناشدنی واقعہ ہوا ہے، جس سے سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی روحِ اقدس کو تکلیف پہنچی ہے۔
خواب سےبیدارہوئے تو فوراً چند ساتھیوں کو لےکرمدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے،
دمشق سے مدینہ منورہ پہنچنے میں عام طور پر بیس پچیس دن لگتے تھے، لیکن سلطان نے یہ فاصلہ نہایت تیز رفتاری کے ساتھ طے کیا اور سولہویں دن مدینہ منورہ جا پہنچا۔
وہاں پہنچ کران دو بدبختوں کے سر تن سے جداکرکے حکم دیا کہ روضہ اطہر کو محفوظ کرنے کیلئے اس کے چاروں اطراف سے ایک گہری خندق کھودی جائے اور اسے پگھلے ہوئے سیسے سے پاٹ دیا جائے۔
سلطان کے حکم کی تعمیل میں روضۂ اطہر کے چاروں طرف اتنی گہری خندق کھودی گئی کہ زمین سے پانی نکل آیا، اس کے بعد اس میں سیسہ بھر دیا گیا تاکہ زمانہ کی دستبرد سے ہر طرح محفوظ رہے۔ یہ سیسے کی دیوار روضۂ اقدس کے گرد آج تک موجود ہے اور ان شاء اللہ ابد تک قائم رہے گی۔
سلطان نورالدین زنگی عالم اسلام کے ان گنے چنے رہنماؤں میں سے ایک تھے جن کے کردار میں قرون اولی کے مسلمانوں کی جھلک نمایاں تھی۔ بلاشبہ وہ دن کے شہوار اور شب کے عبادت گزار تھے ۔ دراز قامت ، سانولی رنگت، کشادہ پیشانی اور دلکش نقوش والا یہ مجاہد پیکر شرافت و مروت تھا۔ اس کی نگاہوں میں کسی فاتح کا قہر تھا نہ تاثرات میں کسی کشور کشا کا تکبر ۔ دیکھنے والوں کو ان کے رویے میں شفقت اور مٹھاس کھلی دکھائی دیتی۔
چہرہ قدرتی طور پر تقریباً بے ریش تھا۔ صرف تھوڑی پر چند بال تھے جو وقار و علم کے اس مجسمے پر بڑے بھلے معلوم ہوتے تھے۔ مگر اس کے باوجود رعب کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے امراء دربار میں گنگ رہتے تھے ۔ دشمن سینکڑوں کوسوں پر ہوتا تب بھی زنگی کے نام سے تھر تھراتا تھا۔
اس دور میں سلطان زنگی کی سلطنت چند بڑی اسلامی سلطنتوں میں سے ایک تھی ۔ شام کے علاوہ حرمین شریفین کے خطبوں میں بھی سلطان کا نام لیا جاتا۔ آخری سال میں یمن پر توران شاہ کے قبضے کے بعد جب وہاں عباسی خلفاء کا خطبہ شروع ہوا تو سلطان کا نام بھی شامل کر لیا گیا۔ حقیقت میں یہ درویش صفت حکمران تمام مسلمانوں کے دلوں پر حکومت کرتا تھا۔ ہر مسجد اور ہر گھر میں اس کے لیے دن رات دعائیں کی جاتی تھیں۔ دلیری کا یہ عالم تھا کہ جنگوں میں خود بڑھ چڑھ کر شریک ہونے اور دست بدست لڑنے سے بھی گریزا نہ تھا۔ یہ فرزند اسلام دو کمانیں ہاتھ میں لے کر اور دو ترکش کمر میں باندھ کر دشمن پر تیروں کا مینہ برساتا چلا جاتا تھا۔
علامہ ابن اثیر الجزری(مشہور مؤرخ) نے سلطان کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے یہاں تک فرمایا ہے:
میں نے گذشتہ بادشاہوں میں خلفائے راشدین اور عمر بن عبد العزیز کے علاوہ کسی حکمران کو نور الدین محمودسے زیادہ اچھی سیرت کا حامل اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے کوشاں نہیں پایا ۔
نیز علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں:
وہ رات کو کثرت سے نوافل پڑھا کرتے تھے۔ اس میں اذکار و وظائف کا اہتمام کرتے ….. وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مسلک کے مطابق فقہ سے اچھی طرح واقف تھے۔ حدیث پاک دوسروں سے سنتے اور ثواب کی نیت سے خود بھی سناتے تھے۔
اس مرد قلندر نے اپنی زندگی میں تقریباً 50سےزیادہ شہراورقلعے فتح کیے، اگرچہ سلطان نورالدین کاسب سےبڑاخواب قدس کو فتح کرنے کاتھا،اور اس کےلیے انہوں نے ایک شاہکارممبر بھی تیارکروایاتھا، مگرقدرت کوکچھ اور ہی منظور تھا.
سلطان مرحوم کے زہد کا یہ عالم تھا کہ بیت المال سے صرف ضرورت کے مطابق وظیفہ لیتے تھے۔ ان کی اہلیہ نے خرچ کی تھی کی شکایت کی تو حمص میں اپنی ملکیت کی تین دوکانیں اس کے نام کر دیں جن سے سالانہ 20 دینار ملنے لگے۔ کچھ عرصہ بعد بیوی نے اس پر بھی حالات کی تنگی کا شکوہ کیا تو سلطان نے کہا:
میرے پاس یہی کچھ ہے، باقی جو کچھ میرے ہاتھ میں ہے مسلمانوں کا ہے، میں صرف اس کا خزانچی ہوں، تمہاری خاطر خیانت کر کے جہنم کی آگ میں نہیں جلنا چاہتا ۔
اس مرتبے اور ان کمالات کے باوجود جہاد میں اپنی جان کے بے قیمت ہونے کا احساس اتنا جا گزیں تھا کہ بلاتردد حریف کی صفوں میں گھس جاتے۔
ایک دن فقیہ قطب نشاوی نے کہا: ” خدا کا واسطہ اپنے آپ کو خطرے میں مت ڈالا کریں۔ آپ کو کچھ ہو گیا تو مسلمانوں کو دشمن کی تلوار سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔
یہ سن کر سلطان نور الدین محمود نے تلخ لہجے میں کہا: “محمود کی کیا حیثیت جو اس قسم کی باتیں کی جارہی ہیں۔ میرے ذریعے ان شہروں اور اسلامی شعائر کی حفاظت کون کر رہا ہے ؟ صرف وہ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔
اسلام کے اس سپوت مرد قلندر نے 58برس کی عمر پائی اور 13 شوال 569ھ کو اس دار فانی سے رخصت ہو گئے،اور اپنے پیچھے امت مسلمہ کوسوگوارچھوڑگئے.
سلطان نورالدین کو(خوانیق) بیماری تھی جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی تھی، یہی بیماری سلطان کی موت کی وجہ بنی.
نوٹ:- بعض لوگ موت کی وجہ زہر بتلاتے ہیں مگر اس میں کوئی صداقت نہیں ہے.
سلطان نے اپنے بعد اپنابیٹا الملک الصالح اسماعیل کواپناجانشین چھوڑا(ان کے بارے میں داستان ایمان فروشوں کی) نامی کتاب میں بہت بہتان بازی اور الزام تراشی سے کام لیاگیاہے، اس پر الگ تحریر لکھوں گا.
تحریر میں مندرجہ ذیل تاریخی کتابوں سے استفادہ کیاگیاہے.
1.الکامل فی التاریخ. مصنف ابن اثیر الجزری
2.تاریخ الاسلام.شمس الدین الذھبی
3.کتاب الروضتین فی اخبار الدولتین،شہاب الدین ابی شامہ
4.النوادرالسطانیہ والمحاسن الیوسفیہ، بھاءالدین ابن شداد
5.تاریخ امت مسلمہ، محمد اسماعیل ریحان
تحریر :حافظ احسان بانی
ہماری ویب سائٹ رئیل ہسٹری پر پوسٹ پڑھنے کا بہت بہت شکریہ
