History of Selahudin Eyyubi

Gamish Tigan A tragic tale of a deceitful ruler-8p


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سب سے پہلے ہم آپکو ہماری ویب سائٹ رئیل ہسٹری پر خوش آمدید کہتے ہیں ❤

گمش تیگن یا غومشتگین جو کہ ایک مکار اور لالچی ذہن کا مالک تھا ۔۔۔
تاریخی حوالے سے اس مکار کے بارے میں کچھ تفصیل آپ کے سامنے مندرجہ ذیل ہیں

Gamish Tigan A tragic tale of a deceitful ruler-8p

“گمش تیگن: ایک مکار حکمران کی عبرت ناک داستان” 🔥

تاریخ کے صفحات میں کچھ کردار اپنے مکر و فریب، سازشوں اور اقتدار کی ہوس کے باعث ہمیشہ کے لیے بدنام ہو جاتے ہیں۔ گمش تیگن بھی ایسا ہی ایک نام ہے، جو زنگی سلطنت میں طاقت اور اختیار کی ہوس میں اندھا ہو چکا تھا۔ اس کی کہانی اقتدار کی پیاس، دھوکہ دہی اور عبرت ناک انجام کا ایسا امتزاج ہے جو تاریخ کے طالب علموں کو چونکا دیتا ہے۔ ⚔

ابتدائی عروج اور نور الدین زنگی کا اعتماد 🏰

گمش تیگن زنگی سلطنت میں ایک بااثر اور چالاک درباری کے طور پر ابھرا۔ اس کی ذہانت اور سفارتی چالاکیاں نور الدین زنگی کی نظروں سے چھپی نہ رہ سکیں، جنہوں نے اسے موصل میں اپنا نائب مقرر کیا۔ ایک ایسے مقام پر جہاں طاقت کا کھیل ہر لمحہ تبدیل ہوتا رہتا تھا، گمش تیگن نے بڑی ہوشیاری سے نور الدین کا اعتماد جیتا اور اقتدار کے کھیل میں مہارت حاصل کی۔ 🎭

نور الدین کی وفات اور موقع پرستی ⚰

1174 میں جب نور الدین زنگی وفات پا گئے، تو زنگی سلطنت میں اقتدار کی جنگ چھڑ گئی۔ نور الدین کا بیٹا الصالح اسماعیل الملک کم عمر اور ناتجربہ کار تھا، جس کا فائدہ گمش تیگن نے بھرپور طریقے سے اٹھایا۔ اس نے خود کو الصالح کا سرپرست بنا کر اقتدار پر قبضہ جمانے کا منصوبہ بنایا۔

وہ الصالح کو دمشق سے حلب لے گیا، تاکہ وہاں سے اپنی حکمرانی کے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکے۔ اس نے یہ ظاہر کیا کہ وہ الصالح کا وفادار محافظ ہے، مگر پس پردہ اس کا مقصد اپنی طاقت کو مضبوط کرنا تھا۔

مکاریوں کا آغاز: اتحاد اور غداری 🤝⚔

اقتدار کو مزید مستحکم کرنے کے لیے، گمش تیگن نے موصل کے حکمران سیف الدین غازی دوم کے ساتھ اتحاد کیا۔ یہ اتحاد اس کی چالاکی کا شاہکار تھا، کیونکہ اس نے اپنے ارد گرد مضبوط اتحادیوں کا جال بُن کر اپنے دشمنوں کو بے بس کر دیا۔

دوسری طرف دمشق کے حکمران ابن المقدام نے حالات کو بھانپتے ہوئے صلاح الدین ایوبی سے مدد طلب کی۔ مگر گمش تیگن کی مکاریاں یہاں بھی رنگ لے آئیں اور اس نے دمشق کا اقتدار بھی ہتھیا لیا۔ اس طرح اس نے زنگی سلطنت کے دو اہم شہروں حلب اور دمشق پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ 🗡🏰


حلب کا گورنر: دشمنوں سے سازباز 🎭

حلب کا گورنر بننے کے بعد، گمش تیگن نے بوہیمونڈ سوم سے معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ بظاہر صلح کی علامت تھا، مگر حقیقت میں یہ اس کی مکار سیاست کا حصہ تھا۔ اس نے 1176 میں رینالڈ اور جوسلن III سمیت دیگر قیدیوں کو رہا کر کے صلیبیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنایا۔

مگر اس کے اقتدار کی پیاس بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ اس نے الصالح کے وزیر کو اپنی راہ کا کانٹا سمجھتے ہوئے ق/تل کروا دیا۔ یہ وہی وزیر تھا جو الصالح کا وفادار تھا اور گمش تیگن کی مکاریوں کو بھانپ چکا تھا۔ 🔪

عبرت ناک انجام: مکاری کا پردہ چاک ⚖🔥

مگر جیسا کہ کہتے ہیں کہ مکر و فریب کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ الصالح کے وزیر کے ق/تل نے گمش تیگن کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکا دی۔ ستمبر 1177 میں اس کے دشمنوں نے حارم کے قلعے پر اسے گھیر لیا۔ وہاں اس پر اتنا تشدد کیا گیا کہ اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔

یہ عبرت ناک انجام اس بات کی گواہی ہے کہ جو دوسروں کے لیے گڑھا کھودتا ہے، ایک دن خود اس میں گر جاتا ہے۔ 💀

ہماری ویب سائٹ رئیل ہسٹری پر پوسٹ پڑھنے کا بہت بہت شکریہ ❤

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button