History of Osman GhaziHistory of Sultan Mehmed Fateh

Who founded the Janissary army? Find out now!-8


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سب سے پہلے ہم آپکو ہماری ویب رئیل ہسٹری پر خوش آمدید کہتے ہیں

آپ نے ینی چری کے بارے میں پہلے کہی نہ کہی تھوڑا بہت سنا یا دیکھا ہوگا ۔۔۔ تو آج ہم آپکو یہ بتائیں گے آخر اس خونخوار لشکر کی بنیاد رکھی جس نے تھی اور کس بنا پر رکھی تھی ؟؟
ابھی جانیے ۔۔۔

Who founded the Janissary army? Find out now!-8

جدید لشکر کی تاسیس ۔ ینگ چری
سلطان اور خان کی زندگی کا ایک اہم کارنامہ اسلامی لشکر کی تاسیس اور اسے ایک خاص فوجی نظام کا پابند بنانے کے لئے منصوبہ بندی کرنا ہے۔ یشکر کی یونٹوں میں منقسم تھا۔ ہر یونٹ میں دس سو یا ہزار ساہی تھی۔ مال غنیمت کا نجس ( پانچواں حصہ ) اس لشکر پر خرچ ہوتا تھا۔ یہ ایک باقاعدہ فوج تھی۔ اس سے پہلے صرف جنگ کے وقت لوگ رضا کارانہ جمع ہوتے تھے کسی با قاعدہ فوج کا انتظام نہیں ہوا تھا۔ اور خان نے اس لشکر کے لئے چھاؤنیاں بنا ئیں جہاں انہیں جنگ کی ٹریننگ دی جاتی تھی۔
انہوں نے ایک اور لشکر کا بھی اضافہ کیا جو انکشاریہ” کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ اس میں ان نو مسلموں کو بھرتی کیا گیا جو سلطنت کی حدود کے وسیع ہو ہو جانے کی وجہ سے عثمانی سلطنت کے شہری بن گئے تھے اور غیر مسلم ، اسلام دشمن طاقتوں کے ساتھ جنگ میں مسلمانوں کی کامیابیوں اور مفتوحہ علاقوں میں بسنے والے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے اسلام میں داخل ہو جانے کی بدولت کافی تعداد میں اسلامی قلم رو میں آباد تھے۔ اور خان نے انہیں مسلم سپاہ میں شمولیت کی دعوت دی اور اسلام کی اشاعت کے سلسلہ میں ان کی خدمات حاصل کیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان نومسلموں کو دینی تعلیم دی جاتی تھی ۔ اور جب ان کی فکری اور حربی تعلیم و تربیت مکمل ہو جاتی تو انہیں مختلف جہادی مراکز میں بھیج دیا جاتا تھا۔ علماء اور فقہاء نے اپنے سلطان اور خان سے مل کر یہ کوشش کی کہ ان کے دل میں جذبہ جہاد حفاظت دین اور فتوحات کا شوق اور شہادت فی سبیل اللہ کی محبت پیدا کی جائے اس لئے جب وہ کسی میدان جنگ میں اترتے تو ان کا نعرہ ہوتا تھا ۔ غازی یا شہید ۔


Who founded the Janissary army? Find out now!-8

کئی متعصب تاریخ نگاروں کا خیال ہے کہ انکشاری فوج نصرانیوں کے ان بچوں سے بنائی گئی تھی جو ان کے والدین سے چھین کر جبرا مسلمان بنائے گئے تھے۔ کہتے ہیں کہ اس کے لئے باقاعدہ ایک نظام اور قانون تھا۔ ان کے خیال میں اس نظام کو اور کا دفتری نظام کہتے تھے۔ ان کے بقول اس نظام کے مطابق نصرانیوں سے بچوں کی صورت میں اسلامی شرعی فیس لیا جاتا تھا۔ جسے بچہ ٹیکس کا نام دیا جاتا تھا۔ اور کبھی اسے بچوں کا ٹیکس کہا جاتا تھا۔ اس قانون کے تحت مسلمان اس بات کے مجاز تھے کہ وہ ہر شہر اور نصرانی دیہات سے مال غنیمت میں خمس کے طور پر پانچ بچوں کو پکڑ کر زبردستی مسلمان بنالیں ۔ ان متعصب تاریخ نگاروں میں جنہوں نے حقیقت مسخ کرنے کی کوشش کی ہے کارل بروکلمان، جیبونز اور جب کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔
حالانکہ حقیقت یہ نہیں ۔ اصل صورت حال یہ ہے کہ ان کے مزعومہ نظام جس کے تحت مسلمان بچوں کی صورت میں یہ ورت میں ٹیکس لیتے تھے ایک جھوٹی کہانی ہے جسے اور خان اور مراد خان بن اور خان کی تاریخ میں زبردستی داخل کیا گیا ہے۔ اور بعد میں آنے ن اور مردار خان بن اور خان والے تمام عثمانیوں کو اس کی وجہ سے مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ دولت عثمانیہ نے نصرانیوں کے ان بچوں کی کفالت کا ایک با ضابطہ انتظام کر رکھا تھا جو مسلسل لڑائیوں کی وجہ سے یتیم رہ جاتے تھے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے کہ دوست ہوتا تھا۔ اسلام جو دولت عثمانیہ کا دین تھا بچوں کی صورت میں ٹیکس لینے کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دیتا یہ محض الزام ہے جو
در حقیقت متعصب نصرانی مورخین کی اسلام دشمنی کی غمازی کرتا ہے۔
جنگوں اور معرکوں کی وجہ سے بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے ماں باپ سے بچھڑ جاتی تھی ۔ مسلم حکمران عثمانیوں نے ایسے تمام بچوں جن کے باپ اور مائیں ان سے بچھڑ گئی تھیں اور وہ مفتوحہ شہروں کے گلی کوچوں میں آورہ پھر رہے تھے ، کی کفالت کا اہتمام کیا۔ ان کے روشن مستقبل کی انہیں ضمانت مہیا کی۔ اور کیا روشن مستقبل کی دائمی ضمانت اسلام کے علاوہ کسی اور دین میں موجود ہے؟ اگر مسلمان اس بات کے حریص تھے کہ آوارہ گرد کسمپری کا شکار بچے اسلام کو اپنے گلے کا زیور بنائیں تو صرف اس بات پر انہیں یہ جھوٹے لوگ یہ الزام دے سکتے ہیں کہ مسلمان بچوں کو ان کے ماں باپ سے زبردستی چھین کر انہیں جبر مسلمان بنا لیتے تھے؟

افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس کذب بیانی، الزام تراشی سفید جھوٹ اور بہتان عظیم قلعی کھولنے کے بجائے بعض مسلم تاریخ نگار اپنے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس کا باقاعدہ درس دیتے ہیں اور وہ اسے اس اندازت اپنے طلبہ کے سامنے بیان کرتے ہیں گویا یہ ایک مسلمہ حقیقت اور کھلی سچائی ہے بہت سے مسلمان تاریخ نگار ایسے ہیں جنہوں نے ان متعصب مؤرخین کی کتب سے بہت زیادہ اثر قبول کیا ہے۔ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں جن کی اسلام دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں سو یہ لوگ اس بہتان کا اپنی کتابوں میں بار بار تذکرہ کرتے ہیں۔ ان میں سے ایڈووکیٹ مورخ محمد فرید بیگ اپنی كتاب ” الدول العلمية العثمانیہ میں ڈاکٹر علی حسون اپنی کتاب ” تاریخ الدولة العثمانية ” مورخ محمد کرد علی اپنی کتاب ” خطط الشام میں ، ڈاکٹر عمر عبدالعزیز اپنی کتاب” محاضرات في تاريخ الشعوب الاسلامیہ میں ، اور ڈاکٹر عبدالکریم غریبہ اپنی کتاب العرب والا تراک میں اس بہتان کا بار بار اعادہ کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ کہانی محض جھوٹ، افتراء پردازی اور الزام ہے اور اس کی دلیل کسی مسلم کتاب میں موجود نہیں ۔ صرف مستشرقین کی تحریریں اس کہانی کا ماخذ ہیں کہ مسلمان نصرانیوں سے بچوں کی صورت میں ٹیکس لیتے تھے۔ اور ایک قانون کے تحت شہروں اور دیہاتوں سے بچوں کو ان کے والدین سے زبردستی چھینا جاتا تھا۔ ایسے متعصب مستشرق علما ء میں جب ، نصرانی ۔ مورخ سوموئیل اور بروکلمان کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اسلامی نظریہ حیات اور تاریخ اسلامی کے بارے ان کے عزائم کے بارے ہم اطمینان کا اظہار نہیں کر سکتے۔ یہ مسلم تاریخ کو جان بوجھ کر مسخ کرنا چاہتے ہیں اور اس طرحآنے والی مسلم نسلوں کو اپنی تابناک تاریخ سے متنفر کرنا چاہتے ہیں۔
جن بچوں کو خصوصی جہادی تربیت دی جاتی تھی وہ نصرانی نہیں ہوتے تھے بلکہ یہ ان مسلمان والدین کے بچے ہوتے تھے جو نصرانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیتے تھے۔ اور اسلام کو بطور حیات بخوشی اپنا لیتے تھے ۔ یہ لوگ بخوشی اپنے بیٹے حاکم وقت کی خدمت میں پیش کر دیتے تھے تا کہ ان کی اسلامی اصولوں پر تعلیم و تربیت ہو سکے ۔ رہے باقی بچے تو ان کا تعلق ان بچوں سے ہوتا تھا جو جنگوں میں یتیم رہ جاتے تھے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا تھا۔ دولت عثمانیہ ایسے بچوں کو اپنا لیتی تھی اور ان کی اسلامی اصولوں پر تربیت کرتی تھی
اور خان بن عثمان نے جو جدید لشکر تشکیل دیا در حقیقت وہ ایک با ضابطہ لشکر تھا جو ہر وقت قطع نظر حالت جنگ و امن کے جنگ کے لئے تیار اپنی چھاؤنی میں موجود رہتا تھا۔ اس لشکر میں شاہی خاندان کے افراد کے علاوہ اس گروہ کے مجاہدین جو ہر ہر وقت جہاد کی دعوت دینے والے کی آواز پر لبیک کہنے کے لئے تیار رہتے تھے اور امراء روم اور ان کے لشکری جن کے دل میں اسلام کا نور سمایا ہواتھا اور وہ بہت اچھے مسلمان تھے سب لوگ شامل تھے۔ اور خان جو نہی اس لشکر کی تنظیم سے فارغ ہوا تو فوراً ایک عالم دین جو نہایت پارسا ، صاحب یقین و تقوٰی تھے کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے دعائے خیر کی درخواست کی۔ ، کی یہ عالم ربانی الحجاج بکتاش تھے ۔ یہ عالم دین بادشاہ سے مل کر بہت خوش ہوئے ۔ ایک سپاہی کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا کی اللہ تعالی انہیں سرخرو کرے۔ ان کی تلواروں میں تیزی اور رکاو ٹ پیدا کرے اور انہیں ہر اس معرکے میں فتح سے ہمکنار کرے جس میں وہ اللہ کی خوشنودی کے لئے اتریں۔ پھر وہ عالم دین اور خان کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: آپ نے اس لشکر کا کوئی نام بھی رکھا ہے کہ نہیں؟ بادشاہ نے عرض کیا: حضور اس کا میں نے کوئی نام تجویز نہیں کیا۔ انہوں نے فرمایا اس کا نام ” ینگ چری ہے جس کا مطلب ہے نیا لشکر ۔
اس نئے لشکر کا جھنڈا سرخ رنگ کے کپڑے کا تھا جس پر ہلال بنا ہوا تھا۔ ہلال کے نیچے تلوار کی تصویر تھی جس کو یمن و ہوا برکت کے لئے ذوالفقار کا نام دیتے تھے۔ ذوالفقار حضرت امام علی رضی اللہ عنہ کی تلوار کانام تھا۔

ہماری ویب سائٹ رئیل ہسٹری پر پوسٹ پڑھنے کا بہت بہت شکریہ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button