السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
سب سے پہلے ہم آپکو ہماری ویب سائٹ رئیل ہسٹری پر خوش آمدید کہتے ہیں!
امید ہے آپ سب خیریت و عافیت سے ہونگے ۔۔۔ ان شاء اللّٰہ
آج عثمان غازی کی مکمل کی تاریخ کی آخری قسط(03) ہے ۔۔۔
ابھی پڑھیے اور اپنے دوستوں کیساتھ شیُر بھی کیجیے!
جزاک اللہ
آج کی آخری قسط میں شامل ہیڈنگز!
فتوحات میں فقط اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا خیال
عثمانیوں کا دستور حکمرانی
عثمان غازی کی اپنے بیٹے اورحان غازی کو وصیت
تو چلتے ہیں اپنے موضوع کی طرف ۔۔۔
فتوحات میں فقط اللہ تعالی کی خوشنودی کا خیال
دولت عثمانیہ کے بانی عثمان بن ارطغرل کی کارروائیاں اور فتوحات اقتصادی، عسکری یا کسی اور مصلحت کے لیے نہیں تھیں بلکہ ان کی غرض و غایت اعلائے کلمہ حق اور دین اسلام کی ترویج تھی۔ اس لیے موراخ احمد رفیق اپنے انسائیکلوپیڈیا” تاریخ العام الکبیر” میں لکھتے ہیں کہ عثمان انتہائی درجہ کا دیندار شخص تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اسلام کی نشر واشاعت آیک مقدس فریضہ ہے۔ وہ نہایت سنجیدہ اور وسیع سیاسی فکر ونظر کا مالک تھا۔ عثمان نے اپنی سلطنت کی بنیاد اقتدار کی محبت پر نہیں رکھی بلکہ اس کی بنیاد اسلام کی اشاعت کی محبت پر رکھی۔
مصر اوغلو لکھتے ہیں” عثمان بن ارطغرل اس بات پر گہرا یقین رکھتے تھے کہ ان کی زندگی کا وظیفہ صرف اور صرف اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کرنا ہے۔ اس نے اپنی تمام ذہنی اور جسمانی قوت سے اس مقصد کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے وقف کر دی”۔
یہ تھیں عثمان اول کی بعض اعلیٰ صفات جو در حقیقت ایمان، روز آخرت کی تیاری، اہل ایمان کے ساتھ محبت اہل کفروعصیان سے نفرت اور جہاد فی سبیل اللّٰہ اور دعوت حق کے ساتھ ان کی محبت کا طبعی ثمرہ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ عثمان اپنی فتوحات میں ایشیاء کوچک کے علاقہ میں رومی حکمرانوں سے تین میں سے ایک چیز اختیار کرنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ اسلام قبول کرے، جزیہ دے یا پھر جنگ کے لیے تیار ہو جائے۔ اسی وجہ سے بعض لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے اور بعض نے جزیہ دینے پر صلح کرلی
۔لیکن جن لوگوں نے نہ اسلام قبول کیا اور نہ جزیہ دینے پر راضی ہوئے تو عثمان نے ان کے خلاف جہاد کیا اور اس میں کسی سستی مظاہرہ نہ کیا۔ اور اس طرح رومیوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے بہت سے علاقوں کو اپنی مملکت میں شامل کر لیا۔ ایمان باللّٰہ اور خوف آخرت کی بدولت عثمان کی شخصیت میں بڑی سنجیدگی اور جاذبیت تھی۔ اسی وجہ سے اس کی قوت اس کی عدالت پر اس کا اقتدار اس کی رحمت پر، اس کی غنا اس کی تواضع پر غالب نہ آئے۔ وہ اللّٰہ کی تائید و نصرت کا مستحق بن گیا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اسے اقتدار اور غلبہ کے اسباب مہیا کیے۔ یہ اللّٰہ کریم کا اپنے بندے عثمان پر خصوصی فضل تھا۔ اللّٰہ کریم حسن تدبیر ورائے، کثرت جنود اور ہیبت وقار کے ذریعے اشیاء کوچک میں انہیں تصور و اقتدار بخش دیا۔ اللّٰہ کریم کی اس پر خصوصی نگاہ تھی اس پر توفیق کا دروازہ کھول دیا اور اس کے بلند مقاصد اور اہداف کو پورا کر دیا۔ دعوت الی اللّٰہ کی محبت کے سبب انہوں نے بڑے کارنامے سر انجام دیے۔ انہوں نے اپنی تلواریں خارہ شگاف کے ذریعے جہاں عظیم فتوحات حاصل کیں وہاں ایمان اور حسن کردار کے ذریعے دلوں کو مسخر کیا۔ جب بھی کسی قوم پر غلبہ حاصل ہوا اسے حق اور ایمان باللّٰہ کی دعوت ضرور دی۔ وہ اپنی سلطنت کے تمام علاقوں اور شہروں میں اصلاحی کاموں کے حریص تھے۔ انہوں نے حق اور عدل و انصاف کی حکمرانی عام کرنے کی کوشش کی ل۔ انہیں اہل ایمان سے گہری محبت اور سچی لگن تھی۔ اور جس طرح وہ اہل ایمان کو دلوں جان سے چاہتے تھے۔ اسی طرح اہل کفروعصیان سے بیز رکھتے تھے۔
عثمانیوں کا دستور حکمرانی
دولت عثمانیہ کے بانی امیر عثمان کی زندگی جہاد اور دعوت سے عبارت تھی۔ علاماۓ امیر کو گھیرے رہتے تھے۔ اور سلطنت میں شرعی احکام کی تنفیذ اور انتظامی عمور کی منصوبہ بندی کی نگرانی کرتے رہتے تھے۔ عثمان کی اپنے بیٹے نام وصیت آج بھی تاریخ میں موجود ہے جس کا ہم مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اس سے تہذیبی اور شرعی طریقہ کار جس پر بعد میں عثمانی سلطنت قائم رہی کے بارے رہنمائی ملتی ہے۔ عثمان جب بستر مرگ پر تھا تو اس نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے کہا تھا۔ ” اے بیٹے! کسی ایسے کام میں مصروف نہ ہونا جسکے کرنے پر پروردگار عالم نے حکم نہ دیا ہو ل۔ جب بھی عمور سلطنت کی انجام دہی میں کوئی مشکل پیش آے تو علاماۓ دین سے مشورہ لینا اور ان سے امداد طلب کرنا۔
اے بیٹے! فرمانبردار لوگوں کو اعزاز سے نوازنا، فوجوں پر انعام و اکرام کرنا کہیں سپاہ اور دولت کی وجہ سے شیطان تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے۔
بیٹا! آپ جانتے ہیں کہ ہمارا مقصود ربا العالمین کی رضا جوئی ہے اور یہ ہم جہاد کے ذریعے تمام آفاق میں اپنے دین کے نور کو عام کردیں لہٰذا وہی بات کرنا جس میں اللّٰہ کریم کی خوشنودی ہو۔
بیٹے! ہم وہ لوگ نہیں جو کشور کشائی اور لوگوں کو غلام بنانے کے لیے جنگ کرتے ہیں۔ ہم نے زندہ رہنا ہے تو اسلام کی خاطر اور مرنا ہے تو بھی اسلام کی خاطر۔ اور یہ ہے وہ چیز میرے بیٹے! جس کا تو اہل ہے
“تاریخ السیاسی للدولتہ العلیہ العثمانیہ” (1) میں ایک دوسری روایت بھی ہے جس میں عثمان کی اپنے بیٹے کا نام وصیت وصیت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
“اے بیٹے! اسلام کی اشاعت، لوگوں کی اس دین کی طرف رہنمائی اور مسلمانوں کی عزت و ابرو اور مال ودولت کی حفاظت تمہارے ذمہ فرض ہے۔ اللہ تعالی کے حضور تمہیں اس بار جواب دا ہونا ہے۔
” اور کتاب” ما ساتہ عثمان” میں اس وصیت کو قدرےمختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ عثمان اپنے بیٹے اور خان کو وصیت کرتے ہوئے کہتا ہے
اے بیٹے ! میں وصیت کرتا ہوں ہمیشہ علمائے امت کا خیال رکھنا ۔ ان کی عزت و تکریم میں کوئی فرق نہ آنے دینا۔ ان کے مشوروں پر عمل کرنا کیونکہ وہ بھلائی ہی کا حکم دیتے ہیں اے میرے لخت جگر ! ایسا کام نہ کرنا جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا نہ ہو۔ اگر کوئی مشکل پیش آئے تو علماء شریعت سے پوچھنا۔ وہ یقینا بھلائی کی طرف آپ کی رہنمائی کریں گے۔
یادرکھیے اے میرے بیٹے ! اس دنیا میں ہمارا راستہ صرف وہی راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا راستہ ہے۔ اور ہمارا مقصد وحید دین کی اشاعت ہے ۔ ہم جاہ و مال کے طالب نہیں ۔ (2)
اور التاريخ العثماني المصور میں اس وصیت کی ایک اور عبارت بھی منقول ہے۔ عثمان اور خان سے کہتا ہے۔
بیٹوں اور دوستوں کو میری وصیت: جہاد فی سبیل اللہ کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے دین اسلام کو ہمیشہ سر بلند رکھنا کمل ترین جہاد کے ذریعے اسلام کے مقدس جھنڈے کو تھامے رکھنا ۔ ہمیشہ اسلام کے خادم رہنا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ جیسے ایک کمزور بندے سے شہروں کو فتح کرنے کی خدمت لی۔ جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے کلمہ توحید کو اقصائے عالم میں پہنچا دو۔ میری نسل سے جو شخص بھی حق اور عدل سے روگردانی کرے گا روز حش رسول اللہ ملی ایم کی شفاعت سے محروم رہے گا۔
اے میرے بیٹے ! دنیا میں ایک انسان بھی ایسا نہیں جو اپنا سرموت کے سامنے خم نہیں کرے گا۔
مجھے پیغام اجل آ پہنچا ہے۔ یہ سلطنت میں تیرے حوالے کرتا ہوں اور تجھے اپنے مولا کو سونپتا ہوں اپنے تمام کاموں میں عدل کرنا۔ (3)
یہ وصیت ایک ضابطہ ہی جس پر بعد میں عثمانی عمل پیرا ر ہے۔ انہوں نے علم اور تعلیمی اداروں بشکر اور عسکری اداروں ، علماء اور ان کے احترام اور جہاد فی سبیل اللہ کا اہتمام کیا جس کی بدولت وہ ار جائے عالم میں جا پہنچے اور اسلامی تہذیب و تمدن کو ان دور دراز علاقوں تک پہنچایا جہاں تک اسلامی جھنڈا پہنچا۔
یہ وہ زندہ جاوید وصیت ہے جس پر عثمانی حکمران اپنے دور عروج میں عمل پیرا رہے۔ اس دور میں جبکہ انہیں ،(4)
مجد و بزرگی اور عزت و غلبہ حاصل تھا۔
عثمان اول جب دولت عثمانیہ کو چھوڑ کر واصل بحق ہوئے تو اس کا رقبہ 16000 مربع کلو میٹر تھا۔ وہ اپنی نوزائدہ مملکت کے لئے بحر مرمرہ تک راستہ بنانے میں کامیاب ہوئے ۔
ہمارے ساتھ جڑیں رہنے کا بہت بہت شکریہ!
ہم نے اپنی پوری کی پوری کوشش کی آپکو صحیح تاریخ دکھائیں ۔۔۔ اور ہمیں پوری کی پوری امید ہے آپکے علم میں ضرور اضافہ ہوا ہوگا
آپکو سچ اور جھوٹ کا پتہ چل گیا ہوگا ایک مختصر سے وقفہ میں!
ہماری آپ سب سے گذارش ہیکہ ہماری محنت کو دیکھ کر ہمیں نیچے کمنٹ میں ضرور بتائے ہمارا کام آپکو کیسا لگا ؟؟ اور اب آگے کس بہادر کی تاریخ شروع کریں ؟؟
بہت بہت بہت شکریہ ❤
خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں