السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سب سے پہلے ہم آپکو ہماری ویب سائٹ رئیل ہسٹری پر خوش آمدید کہتے ہیں!
History of Osman Ghazi Episode 02
نوٹ! عثمان غازی کی تاریخ کی ہر نئی قسط ہفتہ میں دو دن ہماری ویب سائٹ رئیل ہسٹری پر نشر کی جاتی ہے
دن سوموار
دن جمعتہ المبارک
تو اب ہم چلتے ہیں اپنے موضوع کی طرف!
آج کی قسط کی ہیڈنگز
جزبہ ایمانی
عدل و انصاف
وعدہ کی پابندی
جزبہ ایمانی
یہ خوبی اس وقت زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آی جب بروسہ کے سپہ سالار اقرینوس نے عثمان کے بارے میں چھان بین کی اور اسلام قبول کیا۔ سلطنت نے اسے ” بیگ ” کا لقب دیا اور بعد میں دولت اسلامیہ کے معروف سپہ سالاروں میں شمار ہوا۔ بازنطینی سلطنت کے کئی سپہ سالار عثمان کی شخصیت سے متاثر ہوئے اور اس کے طریقہ جنگ اور سیاست کو پسند کیا۔ حتیٰ کے عثمانیوں کی صفیں نومسلم سپہ سالاروں سے بھر گئیں بلکہ بہت سی اسلامی جماعتیں خدمت اسلام کے جذبہ سے سرشار سلطنت عثمانی کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوگئیں
جیسے جماعت ” غزایاروم” یعنی رومی غازی، یہ وہ اسلامی جماعت ہے جو حدودروم پر نظر رکھتی تھی اور ہمیشہ سرحد پر خیمہ زن رہتی تھی۔ یہ جماعت عباسی خلافت کے دور سے رومی حملوں کے سامنے سد سکندری بنی ہوئی تھی۔ ہمیشہ سرحد پر رہنے کی بدولت رومیوں کے خلاف جہاد کے سلسلے میں اس جماعت کو بڑے تجربات حاصل ہوئے اور کافروں کی اخلاقی گراوٹ ان کی اسلام سے وابستگی اور نظام اسلام پر یقین کو بہت پختہ کردیا۔
اس طرح کی ایک اور جماعت جو مخیر حضرات کی تھی بڑی مشہور ہے۔ اس کا نام ” الاخیان ” یعنی الاخوان ہے۔ یہ جماعت مال کی مالی مدد کرتی تھی۔ ان کی میزبانی کے فرائض انجام دیتی تھی اور غازیان اسلام کی خدمت کے لئے لشکروں کا ساتھ دیتے تھی۔ اس جماعت کے اکثر اراکین کا تعلق بڑے بڑے تاجروں سے تھا۔ جنہوں نے اپنی دولت اسلام کی خدمت کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ سماجی کام مثلاً مساجد، خانقاہوں، دکانوں اور ہوٹلوں کی تعمیر سلطنت میں ان لوگوں کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اس جماعت ممتاز علماء بھی شامل تھے جو اسلام کی تہذیب کی ترجیج کا فریضہ سر انجام دیتے تھے۔ اور لوگوں کے دلوں میں تمسک بالدین کا جذبہ بیدار کرتے تھے۔ ایک جماعت حاجیوں پر مشتمل تھی اس کا نام تھا “حاجیات” یعنی ججاج ارض روم۔ اس جماعت کا اسلامی شعور کی بیداری اسلامی علوم کی ترویج و اشاعت اور اسلامی تشریحات و قوانین میں گہری بصیرت پیدا کرنا تھا ان کے علاوہ کئ دوسری جماعتیں بھی تھی جن کا ہدف مسلمانوں کی بلعموم اور مجاہدین کی بلخصوص مدد کرنا تھا
عدل وانصاف
اکثر ترکی مراجع جنہوں نے عثمانیوں کی تاریخ قلم بند کی ہے بیان کرتے ہیں کہ ارطغرل نے اپنے بیٹے عثمان بانی دولت عثمانیہ کو قرہ جہ حصاری میں قاضی مقرر کیا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب 684ھ،1285ھ میں اس شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوا۔ عثمان نے ایک جہگڑے میں ایک مسلمان کے خلاف حکم سناتے ہوئے بازنطینی نصرانی کے حق میں فیصلہ کردیا۔ بازنطینی کو اس سے بڑا تعجب ہوا اور اس نے عثمان سے پوچھا: آپ میرے حق میں فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں جب کے میں آپ کے دین پر نہیں ہوں تو عثمان نے اسے جواب دیا۔ میں آپ کے حق میں فیصلہ کیسے نہ دوں جبکہ اللّٰہ تعالٰی جس کی ہم بندگی کرتے ہیں ہم سے فرماتا ہے۔
ترجمہ:-
بیشک اللّٰہ تعالٰی حکم فرماتا ہے تمہیں کہ (ان کے سپرد)کرو امانتوں کوڈ جو ان کے اہل ہے اور جب بھی فیصلہ کرو لوگوں کے درمیان تو فیصلہ کرو انصاف سے بے شک اللہ تعالی بہت ہی اچھی بات کی نصیحت کرتا ہے تمہیں بے شک اللّٰہ تعالی سب کچھ سننے والا ہر چیز دیکھنے والا ہے۔ “(انساء: 58) عثمان کے اس عدل و انصاف کی بدولت یہ شخص اور اس کی قوم کو ہدایت نصیب ہو گئی اور مسلمان ہو گئے
عثمان اول اپنی رعایا کیساتھ اور ان علاقوں میں جو اس نے فتح کیے عدل و انصاف کو کام میں لایا اور مفتوح عوام کے ساتھ جوروستم، ظلم وزیادتی،جبردوسرکشی اور لوٹ کھسوٹ کا سلوک نہ کیا۔ بلکہ ان کے ساتھ ربانی کے حکم کے مطابق سلوک کیا۔
ترجمہ:- “جس نے ظلم (کفروفسق) کیا تو ہم ضرور اسے سزادیں گے۔ پھر اسے لوٹا دیا جائے گا اس کے رب کی طرف تو وہ اسے سزا دےگا بڑا ہی سخت عذاب اور جو شخص ایمان لایا اور اچھے عمل کئے تو اس کے لئے اچھا معاوضہ ہے اور ہم اسے حکم دیں گے ایسے احکام بجا لانے کا جو آسان ہوں گے” اس ربانی دستور پر عمل کرنا ایمان، تقویٰ،فطانت، فہم و زکا، عدل،نیکی، اور رحم دلی کی دلیل ہے
وعدہ کی پابندی
وعدہ کی پاسداری کا انہیں بڑا خیال تھا۔ جو وعدہ کرتے پورا کرتے۔ قلعہ العباد کے بازنطینی امیر نے جب عثمانی سپاہ کے ہاتھ میں قلعہ کی جابیاں دیں تو یہ شرط عائد کی کے کوئی عثمانی مسلمان پل سےگزرکر قلعہ میں داخل نہیں ہوگا۔ عثمان نے اس کا پورا پورا التزام کیا اور ان کے جانشینوں نے بھی اس عہد کو نبھایا
ملتے ہیں پھر سوموار کو ان شاء اللّٰہ تیسری قسط کیساتھ ۔۔۔۔
ہمارے ساتھ جڑیں رہیں
اور سپورٹ کرتے رہیں
تاکہ ہم اپنی محنت کو جاری رکھ سکیں!
شکریہ