السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سب سے پہلے ہم آپکو ہماری ویب سائٹ رئیل ہسٹری پر خوش آمدید کہتے ہیں
امید ہے آپ سب خیریت و عافیت سے ہونگے
ان شاء اللہ ۔۔۔
تو چلتے ہیں ہم اپنے موضوع کی طرف!
عثمان غازی نے بستر مرگ پر اپنے بیٹے اورحان غازی کو کونسی وصیت کی تھی ؟؟
ابھی جانیے ۔۔۔۔
تاریخی اعتبار سے مندرجہ ذیل وصیتیں عثمان غازی نے اپنے بیٹے اورحان کو کی تھی
دولت عثمانیہ کے بانی امیر عثمان کی زندگی جہاد اور دعوت سے عبارت تھی۔ علاماۓ امیر کو گھیرے رہتے تھے۔ اور سلطنت میں شرعی احکام کی تنفیذ اور انتظامی عمور کی منصوبہ بندی کی نگرانی کرتے رہتے تھے۔ عثمان کی اپنے بیٹے نام وصیت آج بھی تاریخ میں موجود ہے جس کا ہم مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اس سے تہذیبی اور شرعی طریقہ کار جس پر بعد میں عثمانی سلطنت قائم رہی کے بارے رہنمائی ملتی ہے۔ عثمان جب بستر مرگ پر تھا تو اس نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے کہا تھا۔ ” اے بیٹے! کسی ایسے کام میں مصروف نہ ہونا جسکے کرنے پر پروردگار عالم نے حکم نہ دیا ہو ل۔ جب بھی عمور سلطنت کی انجام دہی میں کوئی مشکل پیش آے تو علاماۓ دین سے مشورہ لینا اور ان سے امداد طلب کرنا۔
اے بیٹے! فرمانبردار لوگوں کو اعزاز سے نوازنا، فوجوں پر انعام و اکرام کرنا کہیں سپاہ اور دولت کی وجہ سے شیطان تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے۔
بیٹا! آپ جانتے ہیں کہ ہمارا مقصود ربا العالمین کی رضا جوئی ہے اور یہ ہم جہاد کے ذریعے تمام آفاق میں اپنے دین کے نور کو عام کردیں لہٰذا وہی بات کرنا جس میں اللّٰہ کریم کی خوشنودی ہو۔
بیٹے! ہم وہ لوگ نہیں جو کشور کشائی اور لوگوں کو غلام بنانے کے لیے جنگ کرتے ہیں۔ ہم نے زندہ رہنا ہے تو اسلام کی خاطر اور مرنا ہے تو بھی اسلام کی خاطر۔ اور یہ ہے وہ چیز میرے بیٹے! جس کا تو اہل ہے
“تاریخ السیاسی للدولتہ العلیہ العثمانیہ” (1) میں ایک دوسری روایت بھی ہے جس میں عثمان کی اپنے بیٹے کا نام وصیت وصیت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
“اے بیٹے! اسلام کی اشاعت، لوگوں کی اس دین کی طرف رہنمائی اور مسلمانوں کی عزت و ابرو اور مال ودولت کی حفاظت تمہارے ذمہ فرض ہے۔ اللہ تعالی کے حضور تمہیں اس بار جواب دا ہونا ہے۔
” اور کتاب” ما ساتہ عثمان” میں اس وصیت کو قدرےمختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ عثمان اپنے بیٹے اور خان کو وصیت کرتے ہوئے کہتا ہے
اے بیٹے ! میں وصیت کرتا ہوں ہمیشہ علمائے امت کا خیال رکھنا ۔ ان کی عزت و تکریم میں کوئی فرق نہ آنے دینا۔ ان کے مشوروں پر عمل کرنا کیونکہ وہ بھلائی ہی کا حکم دیتے ہیں اے میرے لخت جگر ! ایسا کام نہ کرنا جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا نہ ہو۔ اگر کوئی مشکل پیش آئے تو علماء شریعت سے پوچھنا۔ وہ یقینا بھلائی کی طرف آپ کی رہنمائی کریں گے۔
یادرکھیے اے میرے بیٹے ! اس دنیا میں ہمارا راستہ صرف وہی راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا راستہ ہے۔ اور ہمارا مقصد وحید دین کی اشاعت ہے ۔ ہم جاہ و مال کے طالب نہیں ۔ (2)
اور التاريخ العثماني المصور میں اس وصیت کی ایک اور عبارت بھی منقول ہے۔ عثمان اور خان سے کہتا ہے۔
بیٹوں اور دوستوں کو میری وصیت: جہاد فی سبیل اللہ کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے دین اسلام کو ہمیشہ سر بلند رکھنا کمل ترین جہاد کے ذریعے اسلام کے مقدس جھنڈے کو تھامے رکھنا ۔ ہمیشہ اسلام کے خادم رہنا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ جیسے ایک کمزور بندے سے شہروں کو فتح کرنے کی خدمت لی۔ جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے کلمہ توحید کو اقصائے عالم میں پہنچا دو۔ میری نسل سے جو شخص بھی حق اور عدل سے روگردانی کرے گا روز حش رسول اللہ ملی ایم کی شفاعت سے محروم رہے گا۔
اے میرے بیٹے ! دنیا میں ایک انسان بھی ایسا نہیں جو اپنا سرموت کے سامنے خم نہیں کرے گا۔
مجھے پیغام اجل آ پہنچا ہے۔ یہ سلطنت میں تیرے حوالے کرتا ہوں اور تجھے اپنے مولا کو سونپتا ہوں اپنے تمام کاموں میں عدل کرنا۔ (3)
یہ وصیت ایک ضابطہ ہی جس پر بعد میں عثمانی عمل پیرا ر ہے۔ انہوں نے علم اور تعلیمی اداروں بشکر اور عسکری اداروں ، علماء اور ان کے احترام اور جہاد فی سبیل اللہ کا اہتمام کیا جس کی بدولت وہ ار جائے عالم میں جا پہنچے اور اسلامی تہذیب و تمدن کو ان دور دراز علاقوں تک پہنچایا جہاں تک اسلامی جھنڈا پہنچا۔
یہ وہ زندہ جاوید وصیت ہے جس پر عثمانی حکمران اپنے دور عروج میں عمل پیرا رہے۔ اس دور میں جبکہ انہیں ،(4)
مجد و بزرگی اور عزت و غلبہ حاصل تھا۔
عثمان اول جب دولت عثمانیہ کو چھوڑ کر واصل بحق ہوئے تو اس کا رقبہ 16000 مربع کلو میٹر تھا۔ وہ اپنی نوزائدہ مملکت کے لئے بحر مرمرہ تک راستہ بنانے میں کامیاب ہوئے ۔
ہماری ویب سائٹ رئیل ہسٹری پر پوسٹ پڑھنے کا بہت بہت شکریہ