History of Osman GhaziHistory of Selahudin Eyyubi

Gaza, History, Politics, and an Unending Tragedy-3


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔
سب سے پہلے ہم آپکو ہماری ویب سائٹ رئیل ہسٹری پر خوش آمدید کہتے ہیں

چلتے ہیں اپنے موضوع کی طرف ۔۔۔۔

Read Now About Gaza, History, Politics, and an Unending Tragedy in Eng & urdu just on our website Real History….

غزہ: تاریخ، سیاست اور ایک نہ ختم ہونے والا المیہ
غزہ، ایک ایسی سرزمین جو تاریخ کے مختلف ادوار میں طاقتور سلطنتوں کے درمیان جنگوں کا مرکز رہی ہے۔ آج یہ علاقہ ایک ایسا میدانِ جنگ بن چکا ہے جہاں عالمی سیاست، طاقت کی کشمکش اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ایک ساتھ دیکھی جا سکتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں، غزہ ایک ایسے تنازع کا شکار ہے جو صرف فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی پالیسیوں، ان کے مفادات اور نظریات کی عکاسی کرتا ہے۔

غزہ کی تاریخی اہمیت:۔
غزہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے، جو ہزاروں سال سے مختلف تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔
مصری دور: غزہ قدیم مصر کی سلطنت کا حصہ رہا، جہاں یہ تجارتی اور دفاعی لحاظ سے ایک اسٹریٹجک مقام رکھتا تھا۔
رومی اور بازنطینی حکمرانی: بعد میں یہ علاقہ رومیوں اور بازنطینی سلطنت کے قبضے میں چلا گیا، جہاں اسے ایک مضبوط قلعے اور تجارتی گزرگاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
اسلامی فتوحات: 7ویں صدی عیسوی میں جب اسلامی فتوحات کا آغاز ہوا تو غزہ بھی مسلم خلافت کا حصہ بنا اور یہاں اسلامی تہذیب کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔ برطانوی اور اسرائیلی قبضہ: 20ویں صدی میں برطانوی حکمرانی کے بعد، اسرائیل نے 1948 میں فلسطینی سرزمین پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔
جدید سیاست اور غزہ کی اہمیت:۔
آج غزہ دنیا کے سب سے متنازعہ علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں ایک طرف اسرائیل کی جارحیت ہے اور دوسری طرف عالمی طاقتوں کی خاموشی یا سیاسی مفادات۔

:۔ اسرائیل اور غزہ

اسرائیل، جو دنیا کی جدید ترین فوجی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، اپنی عسکری طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے۔

بمباری اور محاصرے؛ غزہ پر آئے دن بمباری، بنیادی سہولیات کا خاتمہ، پانی، بجلی اور خوراک کی بندش معمول بن چکا ہے۔
اخلاقی اور قانونی پہلو:عالمی قوانین کے مطابق، عام شہریوں پر حملہ اور انہیں جبری نقل مکانی پر مجبور کرنا جنگی جرم ہے، مگر اسرائیل ان قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔
میڈیا پر کنٹرول:مغربی میڈیا اسرائیلی اقدامات کو مثبت انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ غزہ میں ہونے والی تباہی کو کم اہمیت دی جاتی ہے۔
عالمی سیاست اور دوغلا پن:۔
امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ:** امریکہ ہمیشہ سے اسرائیل کا مضبوط اتحادی رہا ہے اور اسے فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔
یورپی خاموشی:بیشتر یورپی ممالک اسرائیلی اقدامات پر خاموشی اختیار کرتے ہیں یا صرف زبانی مذمت کرتے ہیں، مگر عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔
عرب دنیا کی بے بسی:عرب ممالک بیانات تو جاری کرتے ہیں، مگر عملی طور پر فلسطینیوں کی مدد کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
غزہ میں نسل کشی اور جبری نقل مکانی کا منصوبہ:۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی عزائم
امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غزہ کو ایک کاروباری منصوبے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

واٹر فرنٹ پراپرٹی کا نظریہ:۔ٹرمپ اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے غزہ کو ایک “قیمتی زمین” قرار دیا اور اسے مستقبل کے تجارتی منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
بہتر جگہوں پر منتقلی:ٹرمپ کے مطابق، فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر “بہتر” جگہوں پر منتقل کیا جانا چاہیے۔ مگر حقیقت میں یہ “بہتر جگہیں” کہیں موجود نہیں۔
فائنل سلوشن کی بازگشت:نازی جرمنی میں جس طرح یہودیوں کو “حتمی حل” کے نام پر ختم کرنے کے منصوبے بنائے گئے، ویسے ہی غزہ کے عوام کے خلاف بھی ایک ایسا ہی منصوبہ نظر آتا ہے۔

:۔ فلسطینیوں کے حقوق پر حملہ

اسرائیل لاکھوں فلسطینیوں کو زبردستی غزہ سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس علاقے کو “ڈیولپمنٹ زون” بنایا جا سکے۔1951 کے جنیوا کنونشن کے مطابق، کسی قوم کو جبراً اس کی زمین سے بے دخل کرنا جنگی جرم ہے، مگر اسرائیل ان قوانین کو کھلم کھلا نظر انداز کر رہا ہے۔اقوامِ متحدہ اکثر اسرائیل کے خلاف قراردادیں پاس کرتی ہے، مگر کوئی عملی اقدام نہیں کیا جاتا۔
نتائج اور مستقبل کے امکانات:۔
دنیا بھر میں عام لوگ، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اور بعض ممالک اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک اگر چاہیں تو اسرائیل پر دباؤ ڈال سکتے ہیں، مگر ان کے اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات حائل ہو جاتے ہیں۔
غزہ کے لوگ آج بھی ثابت قدم ہیں اور اپنی سرزمین چھوڑنے کو تیار نہیں۔
غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ کیا دنیا اس ظلم کو ہمیشہ خاموشی سے دیکھتی رہے گی، یا ایک نیا عالمی ضمیر جاگے گا جو فلسطینیوں کے حقوق کے لیے عملی اقدامات کرے گا؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم ہمیشہ نہیں رہتا، اور ایک دن حق ضرور غالب آتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم سب فلسطین کے لیے آواز اٹھائیں اور دنیا کو یاد دلائیں کہ غزہ میں جو ہو رہا ہے، وہ ایک انسانی المیہ ہے جسے روکا جانا چاہیے!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button