History of Osman Ghazi

History of Osman Ghazi Episode 01


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سب سے پہلے ہم آپکو ہماری ویب سائٹ رئیل ہسٹری پر خوش آمدید کہتے ہیں!

نوٹ! عثمان غازی کی تاریخ پر نئی قسط ہفتہ میں دو دن ہماری ویب سائٹ رئیل ہسٹری پر نشر کی جائیگی۔

History of Osman Ghazi Episode 01
دن سوموار
دن جمعتہ المبارک
تو اب ہم چلتے ہیں اپنے موضوع کی طرف!
آج کی قسط کی ہیڈنگز

عثمان غازی میں اعلیٰ قائدانہ صلاحیتیں

شجاعت و حوصلہ مندی

حکمت و دانائی

اخلاص و للہیت

صبر و استقامت

عثمان اول میں اعلیٰ قائدانہ صلاحیتیں

جب ہم عثمان اول کی سیرت میں غور وفکر کرتے ہیں تو ایک فوجی سپہ سالار اور سیاسی شخصیت کی حثیت سے بعض نہایت ہی اعلیٰ کا پر تو ہمیں ان کی شخصیت میں نظر آتا ہے۔ ان اعلیٰ صفات میں اہم ترین درج ذیل ہیں۔

شجاعت و حوصلہ مندی

جب بازنطینیوں نے بورسہ، مادانوس، ادرہ، کتہ، کستلہ کے نصرانی امراء کو 700ھ، 1301ھ میں دولت عثمانیہ کے مؤسس عثمان بن ارطغرل سے جنگ کرنے کی غرض سے ایک صلیبی معائدہ تشکیل دینے کی دعوت دی اور نصرانی امراء نے اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس نوزائیدہ سلطنت کو ختم کرنے کے لیے ایکا کر لیا تو عثمان اپنی فوجیوں کو لے کر آگے بڑھا، خود جنگوں میں گھس گیا اور صلیبی فوجوں کو تتر بتر کر کے شجاعت و بہادری کا وہ مظاہرہ کیا کہ عثمانیوں کے نزدیک اس کی بہادری ضرب المثل بن گئی

حکمت و دانائی

عثمان جب اپنی قوم کا رئیس اعظم مقرر ہواتواس نے بڑی دانائی کا مظاہرہ کیا اور سلطان علاؤ الدین کی نصرانیوں کے خلاف مدد کی۔ بہت سے ناقابل شکست شہروں اور مظبوط قلعوں کو فتح کرنے میں اس کے ساتھ رہا۔ اسی وجہ سے دولت سلاجقہ روم کے فرمانروا سلطان علاؤ الدین نے اسے بڑی عزت دی۔ اسے اپنے نام کے سکہ اور اسے اپنے ماتحت علاقوں میں نام کا خطبہ پڑھنے کی اجازت دے دی۔

اِخلاص وللّٰہیت

عثمان کے زیرِ نگیں علاقوں کے قریب بسنے والے لوگوں کو جب اس بات کا علم ہوا کہ وہ دین اسلام کا ایک مخلص سپاہی ہے تو وہ اس کی مدد پر کمر بستہ ہوگئے اور ایک ایسی اسلامی سلطنت کے ستونوں کو مستحکم کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے جو اسلام دشمن (نصرانی) سلطنت کے سامنے ناقابل عبور دیوار بن کر کھڑی ہوگئی۔

صبر و استقامت

جب عثمان نے قلعوں اور شہروں کو فتح کرنے شروع کیا تو یہ صفت ان کی شخصیت میں بہت نمایاں ہوکر سامنے آی 707ھ میں اس نے (یکے بعد دیگرے)کتہ، لفقہ، آق حصار، قوج حصار کے قلعے فتح کیے۔712ھ میں کبوہ، یکیجہ طراقلوہ اور تکرر بیکار ی وغیرہ قلعے فتح کیے۔ انہیں فتوحات نے بروسہ کی فتح کو آسان بنادیاحالانکہ یہ مشکل ترین معرکہ تھا۔ لیکن عثمان کے حوصلہ اور استقامت نے فتح کا تاج اس کے سر پر سجا دیا۔ کئی سال تک عثمان اور امیر شہراقرینوس کے درمیان سخت معرکہ ہوئے لیکن بالآخر نصرانی سپہ سالار کو سر جھکانا پڑا اور شہر عثمان کے حوالے کرنا پڑا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ترجمہ۔ ” اے ایمان والو ! صبر کرو اور ثابت قدم رہو(دشمن کے مقابلے میں) اور کمر بستہ رہو(خدمت دین کے لیے) اور (ہمیشہ) اللّٰہ سے ڈرتے رہو تاکہ(اپنے مقصد میں) کامیاب ہو جاؤ۔”

ملتے ہیں جمعرات کو ان شاء اللّٰہ دوسری قسط کیساتھ ۔۔۔۔
ہمارے ساتھ جڑیں رہیں
اور سپورٹ کرتے رہیں
تاکہ ہم اپنی محنت کو جاری رکھ سکیں

شکریہ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button